8 اشعار

چہرہ فتنہ وبال آنکھیں ہیں

Chehra fitna o wabaal aankhein hain

چہرہ فتنہ وبال آنکھیں ہیں

«چہرہ فتنہ وبال آنکھیں ہیں» زبیر قلزم کا کلام ہے، جسے شاعر نے خود سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «زبیر قلزم صاحب کے نام ایک شام» میں 11 مئی 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

چہرہ فتنہ وبال آنکھیں ہیںہائے کتنی کمال آنکھیں ہیں

نہ ستارے کہو نہ موتی کہووہ میاں بے مثال آنکھیں ہیں

ان کی معصومیت پہ مت جاناوجہ جدل و قتال آنکھیں ہیں

میں کوئی بات بھی کروں کیسےاک نظر سو سوال آنکھیں ہیں

ہم پہ واجب ہے رقص کرنا ابہم نے دیکھی دھمال آنکھیں ہیں

کیا بتاؤں میں خال و خد اس کےاس کا سارا جمال آنکھیں ہیں

یہ طبیبوں کے بس کی بات نہیںوہ طبیعت بحال آنکھیں ہیں

ہم نے مانا شکاری ہو قلزمبچ کے رہنا وہ جال آنکھیں ہیں

— زبیر قلزم

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں