7 اشعار

بہانے سے میں اسے حال دل بتا جاؤں

Bahane se mai usay haal-e-dil bata jaaun

بہانے سے میں اسے حال دل بتا جاؤں

«بہانے سے میں اسے حال دل بتا جاؤں» زبیر قلزم کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

بہانے سے میں اسے حال دل بتا جاؤںکبھی نہیں جو سنائی غزل سنا جاؤں

مرے رقیب اگرچہ نہ کر سکا میں ہنوزکہ بن کہ ہندہ کلیجہ ترا چبا جاؤں

خطوط ایسے کہ کوفہ سے آئے ہوں جیسےمیں اعتبار کروں یارو کیا چلا جاؤں

سراغ میرا محبت کبھی بھی پا نہ سکےیہ سوچتا ہوں کہ نقش وفا مٹا جاؤں

دیا جلاؤں ترے نام کا دئیے پر پھرتجھے میں پانے کی منت کو بھی جلا جاؤں

یہ سوچ کر تری محفل میں آج پھر آیابچے ہیں چار جو ارمان وہ لٹا جاؤں

میں آج کل ہوں اجل کی تلاش میں قلزمکہ مل کے موت سے راز حیات پا جاؤں

— زبیر قلزم