8 اشعار

اس قدر پیار سے وہ کھلاتے رہے

Is qadar pyar se woh khilate rahe

اس قدر پیار سے وہ کھلاتے رہے

«اس قدر پیار سے وہ کھلاتے رہے» زبیر قلزم کا کلام ہے، جسے شاعر نے خود سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «زبیر قلزم صاحب کے نام ایک شام» میں 11 مئی 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

اس قدر پیار سے وہ کھلاتے رہےیہ لگا ہی نہیں دھوکہ کھاتے رہے

یہ بھی سچ ہے کسی سے محبت نہ تھییہ بھی سچ ہے سبھی سے نبھاتے رہے

ان کو پوچھے خدا ان کا نہ ہو بھلاجو محبت کو نعمت بتاتے رہے

ان کے ہاتھوں میں شاید شفا ہی نہ تھیہم جہنیں زخم اپنے دکھاتے رہے

ہم نے تا عمر خوش جس خدا کو کیااس خدا کے ہی بندے رلاتے رہے

ذکر چھیڑا کسی نے وفاؤں کا جبوہ نہ بولے مگر منہ چھپاتے رہے

عشق والوں کا دل نہ لگا پھر کہیںحسن والے تو دل کو لگاتے رہے

لوگوں نے روح تک کو دیا ہے فریبعشق کہہ کر ہوس کو مٹاتے رہے

— زبیر قلزم

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں