7 اشعار

جسم مے خانے میں پڑا ہے مرا

Jism mai-khane me pada hai mera

جسم مے خانے میں پڑا ہے مرا

«جسم مے خانے میں پڑا ہے مرا» زبیر قلزم کا کلام ہے، جسے شاعر نے خود سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «زبیر قلزم صاحب کے نام ایک شام» میں 11 مئی 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

جسم مے خانے میں پڑا ہے مرادل نجانے کہاں گرا ہے مرا

میں تمہیں بد دعائیں دیتا ہوںجب کوئی حال پوچھتا ہے مرا

مجھ کو بوڑھا نہ جان بات یہ ہےغم مری عمر سے بڑا ہے مرا

گھر میں پنکھا ہے اور رسی بھیپھر بھی زندہ ہوں حوصلہ ہے مرا

خوش رہوں غم کو مار دوں یعنیایک غم ہی تو آسرا ہے مرا

میرا ہو جائے اب تو اس سے کہواب تو معیار بھی گرا ہے مرا

جانے تعبیر کیا ہو گی قلزمخواب میں خواب اک جلا ہے مرا

— زبیر قلزم

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں