13 اشعار

گماں

Gumaan

گماں

«گماں» زبیر قلزم کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 25 سیکنڈ ہے۔

اے مری ہم نفس میں نہیں چاہتاروبرو آئے تو میں نہیں چاہتا

ہے سنہری بدن زلفیں کالی تریساری دنیا سے آنکھیں نرالی تری

سرخ یاقوت ہوں ہونٹ جیسے تریچوم کر بخت ان کو ہیں جاگے مرے

گال تیرے گلابی صنمنین تیرے شرابی صنم

گال دیکھوں تو پاگل سا ہو جاؤں میںنین دیکھوں تو مدہوش ہو جاؤں میں

مات کھائے تری چال سے تو غزالایک تل ہے کہیں ہے یہ میرا خیال

ہاتھ ہیں نرم جزبات ہیں گرم سےپاس آتی ہو میرے مگر شرم سے

ہاتھ جتنی کمر ہے تریان خیالوں میں ہوتی سحر ہے مری

تم گماں کے ہی آنگن ٹہلتی رہویوں گمانوں گمانوں میں ملتی رہو

تم گماں ہو گماں ہی رہوہاں کھلا آسماں ہی رہو

دیکھو تو خوبصورت ہے کتنا گماںمار ڈالوں بھلا کیسے اپنا گماں

اے مری ہم نفس ہے خدا کی قسممیں نہیں چاہتا میں نہیں چاہتا

وصل کی ضد نہ کر میں نہیں چاہتاموت اپنے گماں کی نہیں چاہتا

— زبیر قلزم