7 اشعار

شور اس کی گلی میں مچا پھر سہی

Shor us ki gali mein macha phir sahi

شور اس کی گلی میں مچا پھر سہی

«شور اس کی گلی میں مچا پھر سہی» زبیر قلزم کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

شور اس کی گلی میں مچا پھر سہیخواب جس کو نہیں ہے ملا پھر سہی

تو بھی مصروف ہے کام مجھ کو بھی ہیںہم جدا ہوں نہ ہوں فیصلہ پھر سہی

آ گلے سے لگا ہے گھڑی آخریبے وفا کون ہے یہ گلہ پھر سہی

زندگی ساتھ دینے چلی آئی ہےپاب ضرورت نہیں میں چلا پھر سہی

موت تھی ہر طرف سب کو لے کر چلیمیں نے پوچھا جو اپنا کہا پھر سہی

ہائے مانگا صلہ جو وفا کا کہایہ وفا کو اٹھا جو صلہ پھر سہی

عشق ہے اک بلا اور معصوم توبھاگ قلزم ابھی جاں بچا پھر سہی

— زبیر قلزم