7 اشعار

شوق اپنے سبھی نرالے ہیں

Shauq apne sabhi nirale hain

شوق اپنے سبھی نرالے ہیں

«شوق اپنے سبھی نرالے ہیں» زبیر قلزم کا کلام ہے، جسے ثناجاوید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «زبیر قلزم صاحب کے نام ایک شام» میں 11 مئی 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 39 سیکنڈ ہے۔

شوق اپنے سبھی نرالے ہیںسانپ خود آستیں میں پالے ہیں

چار پیسے لگیں غریب کے ہاتھاس طرح غم ترے سنبھالے ہیں

تم مکیں تو نہیں ہو قبروں کےکیوں زباں پر پڑے یہ تالے ہیں

ہو رہے سب عیاشیوں کی ہی نذرمیرے بچوں کے جو نوالے ہیں

تیرے دل میں جگہ کہاں پاتےہم وہ جنت سے جو نکالے ہیں

اس تری چپ پہ آسماں والےبد گماں ہم زمین والے ہیں

روشنی سے مہک بھی آئے گیخوں جلا کر کیے اجالے ہیں

— زبیر قلزم

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں