8 اشعار

جو مقبول نہ ہو سکے وہ دعا ہوں

Jo maqbool na ho sake woh dua hoon

جو مقبول نہ ہو سکے وہ دعا ہوں

«جو مقبول نہ ہو سکے وہ دعا ہوں» زبیر قلزم کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «زبیر قلزم صاحب کے نام ایک شام» میں 11 مئی 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

جو مقبول نہ ہو سکے وہ دعا ہوںنہ کوئی بھی جو سن سکے وہ صدا ہوں

پڑھو نفل گھر جا کے شکرانے کے تمبڑے ہی نصیبوں سے تم کو ملا ہوں

سنو تم نہ ایسے مرے پاس آوکہ انسان کے روپ میں اک بلا ہوں

اسی واسطے ہی میں تنہا ہوں رہتاوہ کہہ کر گیا تھا میں سب سے جدا ہوں

مسیحا مرے اب کریں تو کریں کیامیں خود کے لئے خود بنا اک سزا ہوں

رقیبوں سے ملتا ہے وہ چھپ چھپا کرمرے منہ پہ کہتا قسم سے ترا ہوں

تمہیں کیا پتا کہتا کس دل سے ہوں میںرقیبوں سے جلتا نہیں نہ جلا ہوں

یقیں اس کا پھر سے میں کرنے لگا تھابڑے حادثے سے میں قلزم بچا ہوں

— زبیر قلزم

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں