7 اشعار

جو یہاں حق کی بات کر جائے

Jo yahan haq ki baat kar jaaye

جو یہاں حق کی بات کر جائے

«جو یہاں حق کی بات کر جائے» زبیر قلزم کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

جو یہاں حق کی بات کر جائےبات کرتے ہی اس کا سر جائے

خاک انصاف ہو وہاں پہ جہاںآدمی آدمی سے ڈر جائے

کتنی خوش قوم ہے وہ دیکھو زراحال پر جس کے آنکھ بھر جائے

دیس میں ظلم بھوک پیاس دکھےجس طرف بھی مری نظر جائے

ایک پیغام ہے خدا کے لیےکوئی موسی ہے طور پر جائے

ان سے جائز ہے تعزیت کرنا؟یار جن کا ضمیر مر جائے

حق دیا جائے اس کو مرنے کاآہ تک جس کی بے اثر جائے

— زبیر قلزم