9 اشعار

کیا یہاں مسئلے سناؤں گا

Kya yahan masle sunaunga

کیا یہاں مسئلے سناؤں گا

«کیا یہاں مسئلے سناؤں گا» زبیر قلزم کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔

کیا یہاں مسئلے سناؤں گاچل کبھی طور پر میں آؤں گا

کیوں فقط دیکھتا رہا ہم کوکچھ سوالات بھی اٹھاؤں گا

کوئی وعدہ نہیں کیا پھر بھیتیرے کن کا بھرم نبھاؤں گا

تیرے ہوتے خدا بنے انساںیہ ستم بھی تمہیں بتاؤں گا

گر نہ آئی نصیب میں جنتتو جہنم میں بھی نہ جاؤں

پھر کسی کی یہ آرزو نہ کرےتیرے پہلو میں دل جلاؤں گا

جان بے جان خالی دامن ہےکوئے جاناں میں کیا لٹاؤں گا

ظرف والا رقیب لا تو سہیتجھ سے پہلے گلے لگاؤں گا

ہاں بنا لوں گا میں حسیں منظرحیف آنکھیں بنا نہ پاؤں گا

— زبیر قلزم