7 اشعار

نگاہ اس کی اگر عارفانہ ہے یارو

Nigah uss ki agar arifana hai yaaro

نگاہ اس کی اگر عارفانہ ہے یارو

«نگاہ اس کی اگر عارفانہ ہے یارو» زبیر قلزم کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔

نگاہ اس کی اگر عارفانہ ہے یاروتو عشق اپنا بڑا صوفیانہ ہے یارو

وگرنہ مجھ سا کہاں بد لحاظ ہے کوئیمتاع جاں ہے گلہ مودبانہ ہے یارو

میں جس آنکھوں پہ ایمان لایا ہوں کاملقبیلہ اس کا بڑا کافرانہ ہے یارو

کئی طریقے ہیں غم کو چھپانے کے لیکنکٹھن جو سب سے ہے وہ مسکرانا ہے یارو

بہت عجیب یہ مشکل مجھے ہے آن پڑیکہ شاعری بھی یہ گھر بھی چلانا ہے یارو

وہ آ رہے ہیں عیادت کو اور مصیبت یہکہ ان سے حال بھی اپنا چھپانا ہے یارو

محبتیں بھی کرے اور کرے وفائیں بھیمزاج رکھتا وہی شاعرانہ ہے یارو

— زبیر قلزم