7 اشعار

سب کو حیرت میں ڈال دیتا ہوں

Sab ko hairat mein daal deta hoon

سب کو حیرت میں ڈال دیتا ہوں

«سب کو حیرت میں ڈال دیتا ہوں» زبیر قلزم کا کلام ہے، جسے آدرش نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «زبیر قلزم صاحب کے نام ایک شام» میں 11 مئی 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 41 سیکنڈ ہے۔

سب کو حیرت میں ڈال دیتا ہوںغم ہوا میں اچھال دیتا ہوں

مرنا لازم ہو کیسے جیتے ہیںآؤ تم کو کمال دیتا ہوں

وہ مجھے ہجر سونپ جاتا ہےجس کسی کو وصال دیتا ہوں

عشق آتاہے روز میرے گھرروز گھر سے نکال دیتا ہوں

بات کوئی کرے جو گرگٹ کیاس کو تیری مثال دیتا ہوں

بھول جاتا ہوں تلخ باتیں مگرتلخ لہجہ سنبھال دیتا ہوں

سخت بیزار زندگی سے اورموت آئے تو ٹال دیتا ہوں

— زبیر قلزم

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں