5 اشعار

تم سمجھتے ہو سب زخم بھر جاتے ہیں

Tum samajhte ho sab zakhm bhar jaate hain

تم سمجھتے ہو سب زخم بھر جاتے ہیں

«تم سمجھتے ہو سب زخم بھر جاتے ہیں» زبیر قلزم کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 43 سیکنڈ ہے۔

تم سمجھتے ہو سب زخم بھر جاتے ہیںکچھ رگ جان تک بھی اتر جاتے ہیں

میں کہاں جاؤں گا شام ہونے کو ہےشام کو لوگ تو اپنے گھر جاتے ہیں

یار مرشد ہمیں کوئی تعویز دےاب حسیں خواب آئے تو ڈر جاتے ہیں

کار الفت میں یہ بھی ہے دیکھا حضوروہ بھلے رہتے ہیں جو مکر جاتے ہیں

یوں ہی چہرے کی رونق نہیں برقرارزخم کھاتے ہیں اور ہم نکھر جاتے ہیں

— زبیر قلزم