آنکھوں سے عیاں زخم کی گہرائی تو اب ہے
کلام: اعتبارساجد
آنکھوں سے عیاں زخم کی گہرائی تو اب ہےاب آ بھی چکو وقت مسیحائی تو اب ہے
پہلے غم فرقت کے یہ تیور تو نہیں تھےرگ رگ میں اترتی ہوئی تنہائی تو اب ہے
ایک ہی شہر میں رہنا مگر ملنا نہیں (اعتبار ساجد)
مہمان شاعر: اعتبارساجد
آنکھوں سے عیاں زخم کی گہرائی تو اب ہےاب آ بھی چکو وقت مسیحائی تو اب ہے
پہلے غم فرقت کے یہ تیور تو نہیں تھےرگ رگ میں اترتی ہوئی تنہائی تو اب ہے
گھر کی دہلیز سے بازار میں مت آ جاناتم کسی چشم خریدار میں مت آ جانا
خاک اڑانا انہیں گلیوں میں بھلا لگتا ہےچلتے پھرتے کسی دربار میں مت آ جانا