رُتوں کا زہر چکھوں محبس فضا میں رہوں
کلام: اعتبارساجد
رُتوں کا زہر چکھوں محبس فضا میں رہوںمرے جنوں کا تقاضا ہے ابتلا میں رہوں
چمک پڑوں سرد اماں آرزو ہر شبمیں اشک بن کے تری چشم نیم وا میں رہوں
ایک ہی شہر میں رہنا مگر ملنا نہیں (اعتبار ساجد)
مہمان شاعر: اعتبارساجد
رُتوں کا زہر چکھوں محبس فضا میں رہوںمرے جنوں کا تقاضا ہے ابتلا میں رہوں
چمک پڑوں سرد اماں آرزو ہر شبمیں اشک بن کے تری چشم نیم وا میں رہوں
اندر سےکوئی گھنگھرو چھنکے کوئی گیت سنیں تو لکھیں بھیہم دھیان کی آگ میں تپتے ہیں کچھ اور تپیں تو لکھیں بھی
یہ لوگ بیچارے کیا جانیں کیوں ہم نے حرف کا جوگ لیااس راہ چلیں تو سمجھیں بھی اس آگ جلیں تو لکھیں بھی