بچھڑے تو قربتوں کی دعا بھی نہ کر سکے
کلام: اعتبارساجد
بچھڑے تو قربتوں کی دعا بھی نہ کر سکےاب کے تجھے سپردِ خدا بھی نہ کر سکے
تقسیم ہو کے رہ گئے صد کرچیوں میں ہمنامِ وفا کا قرض ادا بھی نہ کر سکے
ایک ہی شہر میں رہنا مگر ملنا نہیں (اعتبار ساجد)
مہمان شاعر: اعتبارساجد
بچھڑے تو قربتوں کی دعا بھی نہ کر سکےاب کے تجھے سپردِ خدا بھی نہ کر سکے
تقسیم ہو کے رہ گئے صد کرچیوں میں ہمنامِ وفا کا قرض ادا بھی نہ کر سکے
ہم بھی شکستہ دل ہیں، پریشان تم بھی ہواندر سے ریزہ ریزہ میری جان تم بھی ہو
ہم بھی ہیں ایک اجڑے ہوئے شہر کی طرحآنکھیں بتا رہی ہیں کہ ویران تم بھی ہو
ترستی آنکھیں , اداس چہرہ , نحیف لہجہ , بغیر تیرےبکھری زلفیں , لباس اجڑا , وجود خستہ , بغیر تیرے
عمیق جنگل, گھپ اندھیرا, ڈوبی سانسیں,ضعیف دھڑکنبرہنہ پاؤں , بے نام منزل , نشاں نہ رستہ , بغیر تیرے