کیسے کہیں کہ جان سے پیارا نہیں رہا
کلام: اعتبارساجد
کیسے کہیں کہ جان سے پیارا نہیں رہایہ اور بات اب وہ ہمارا نہیں رہا
آنسو ترے بھی خشک ہوئے اور میرے بھینم اب کسی ندی کا کنارا نہیں رہا
ایک ہی شہر میں رہنا مگر ملنا نہیں (اعتبار ساجد)
مہمان شاعر: اعتبارساجد
کیسے کہیں کہ جان سے پیارا نہیں رہایہ اور بات اب وہ ہمارا نہیں رہا
آنسو ترے بھی خشک ہوئے اور میرے بھینم اب کسی ندی کا کنارا نہیں رہا
محتاج ہم سفر کی مسافت نہ تھی مریسب ساتھ تھے کسی سے رفاقت نہ تھی مری
حق کس سے مانگتا کہ مکینوں کے ساتھ ساتھدیوار و بام و در کو ضرورت نہ تھی مری