اس لہو کا لہجہ ہوں
کلام: اعتبارساجد
اس لہو کا لہجہ ہوںجس کی روشنائی سے
بام دور چمکتے ہیںجس کے عکسِ روشن سے
ایک ہی شہر میں رہنا مگر ملنا نہیں (اعتبار ساجد)
مہمان شاعر: اعتبارساجد
اس لہو کا لہجہ ہوںجس کی روشنائی سے
بام دور چمکتے ہیںجس کے عکسِ روشن سے
مراسم اِس لیے پیدا کیے دربان سے پہلےکہ دروازہ بھی آتا ہے کِسی کے لان سے پہلے
پھر اُس کے بعد تنہائی کے دُکھ بھی جھیلنے ہوں گےیہی ڈر تھا رفاقت کے ہر اِک اِمکان سے پہلے