5 اشعار

روشنی جیسے کسی شام کے آنے سے ہوئی

Roshni jaise kisi shaam ke aane se hui

روشنی جیسے کسی شام کے آنے سے ہوئی

«روشنی جیسے کسی شام کے آنے سے ہوئی» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دعا ہم زاد ہو سکتی دیا ہم راز ہو سکتا شاہین عباس» میں 23 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

روشنی جیسے کسی شام کے آنے سے ہوئیخاک دریافت مری خاک اڑانے سے ہوئی

رنگ پھر آئے نہیں موج میں پہلے کی طرحایسی تصویر مؤخر ترے جانے سے ہوئی

تو نے چپ سادھ لی موضوع محبت دے کرگفتگو تجھ سے جو ہونی تھی زمانے سے ہوئی

تھا مگر ایسا اکیلا میں کہاں تھا پہلےمیری تنہائی مکمل ترے آنے سے ہوئی

اپنے بارے میں وہ اک بات جو ہوتی نہیں تھیتیری آواز میں آواز ملانے سے ہوئی

— شاہین عباس

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں