قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچ
کلام: محسن نقوی
قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچاب تو کھلنے لگے مقتل بھرے بازار کے بیچ
اپنی پوشاک کے چھن جانے پہ افسوس نہ کرسر سلامت نہیں رہتے یہاں دستار کے بیچ
جب رو بہ رو ہو تیرے گفتار بھول جاوئے آبرو شاہ مبارک
مہمان شاعر: آبرو شاہ مبارک
قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچاب تو کھلنے لگے مقتل بھرے بازار کے بیچ
اپنی پوشاک کے چھن جانے پہ افسوس نہ کرسر سلامت نہیں رہتے یہاں دستار کے بیچ