اس زلف جاں کوں صنم کی بلا کہو
کلام: آبرو شاہ مبارک
اس زلف جاں کوں صنم کی بلا کہوافعی کہو سیاہ کہو اژدہا کہو
قاتل نگہ کوں پوچھتے کیا ہو کہ کیا کہوخنجر کہو کٹار کہو نیمچا کہو
جب رو بہ رو ہو تیرے گفتار بھول جاوئے آبرو شاہ مبارک
مہمان شاعر: آبرو شاہ مبارک
اس زلف جاں کوں صنم کی بلا کہوافعی کہو سیاہ کہو اژدہا کہو
قاتل نگہ کوں پوچھتے کیا ہو کہ کیا کہوخنجر کہو کٹار کہو نیمچا کہو
خورشید رو کے آگے ہو نور کا سوالیکاسہ لیے گدا کا آیا ہے چاند خالی
سناہٹا جدا ہے اور بے خودی نرالیہے میرے جی کے حق میں یہ ابر برس گالی
محفل آرا تھے مگر پھر کم نما ہوتے گئےدیکھتے ہی دیکھتے ہم کیا سے کیا ہوتے گئے
نا شناسی دہر کی تنہا ہمیں کرتی گئیہوتے ہوتے ہم زمانے سے جدا ہوتے گئے