عشق ہے اختیار کا دشمن
کلام: آبرو شاہ مبارک
عشق ہے اختیار کا دشمنصبر و ہوش و قرار کا دشمن
دل تری زلف دیکھ کیوں نہ ڈرےجال ہو ہے شکار کا دشمن
جب رو بہ رو ہو تیرے گفتار بھول جاوئے آبرو شاہ مبارک
مہمان شاعر: آبرو شاہ مبارک
عشق ہے اختیار کا دشمنصبر و ہوش و قرار کا دشمن
دل تری زلف دیکھ کیوں نہ ڈرےجال ہو ہے شکار کا دشمن
آج یاروں کو مبارک ہو کہ صبح عید ہےراگ ہے مے ہے چمن ہے دل ربا ہے دید ہے
دل دوانہ ہو گیا ہے دیکھ یہ صبح بہاررسمسا پھولوں بسا آیا انکھوں میں نیند ہے