رکھے کوئی اس طرح کے لالچی کو کب تلک بہلا
کلام: آبرو شاہ مبارک
رکھے کوئی اس طرح کے لالچی کو کب تلک بہلاچلی جاتی ہے فرمائش کبھی یہ لا کبھی وہ لا
مجھے ان کہنہ افلاکوں میں رہنا خوش نہیں آتابنایا اپنے دل کا ہم نیں اور ہی ایک نو محلا
جب رو بہ رو ہو تیرے گفتار بھول جاوئے آبرو شاہ مبارک
مہمان شاعر: آبرو شاہ مبارک
رکھے کوئی اس طرح کے لالچی کو کب تلک بہلاچلی جاتی ہے فرمائش کبھی یہ لا کبھی وہ لا
مجھے ان کہنہ افلاکوں میں رہنا خوش نہیں آتابنایا اپنے دل کا ہم نیں اور ہی ایک نو محلا
گناہ گاروں کی عذر خواہی ہمارے صاحب قبول کیجےکرم تمہارے کی کر توقع یہ عرض کیتے ہیں مان لیجے
غریب عاجز جفا کے مارے فقیر بے کس گدا تمہارےسو ویں ستم سیں مریں بچارے اگر جو ان پر کرم نہ کیجے