بڑھے ہے دن بدن تجھ مکھ کی تاب آہستہ آہستہ
کلام: آبرو شاہ مبارک
بڑھے ہے دن بدن تجھ مکھ کی تاب آہستہ آہستہکہ جوں کر گرم ہو ہے آفتاب آہستہ آہستہ
کیا خط نیں ترے مکھ کوں خراب آہستہ آہستہگہن جوں ماہ کوں لیتا ہے داب آہستہ آہستہ
جب رو بہ رو ہو تیرے گفتار بھول جاوئے آبرو شاہ مبارک
مہمان شاعر: آبرو شاہ مبارک
بڑھے ہے دن بدن تجھ مکھ کی تاب آہستہ آہستہکہ جوں کر گرم ہو ہے آفتاب آہستہ آہستہ
کیا خط نیں ترے مکھ کوں خراب آہستہ آہستہگہن جوں ماہ کوں لیتا ہے داب آہستہ آہستہ
ہمارے سانولے کوں دیکھ کر جی میں جلی جامنلگا پھیکا سواد اس کا نہیں لگتی بھلی جامن
سراپا آج نمکینی و نرمی و گدازی سوںہوا یہ سانولا گویا نمک میں کی گلی جامن