سرسوں لگا کے پاؤں تلک دل ہوا ہوں میں
کلام: آبرو شاہ مبارک
سرسوں لگا کے پاؤں تلک دل ہوا ہوں میںیاں لگ ہنر میں عشق کے کامل ہوا ہوں میں
سینکوں نگاہ گرم سیں خوش چشم کی مجھےشمشیر اس بھواں کے سیں گھائل ہوا ہوں میں
جب رو بہ رو ہو تیرے گفتار بھول جاوئے آبرو شاہ مبارک
مہمان شاعر: آبرو شاہ مبارک
سرسوں لگا کے پاؤں تلک دل ہوا ہوں میںیاں لگ ہنر میں عشق کے کامل ہوا ہوں میں
سینکوں نگاہ گرم سیں خوش چشم کی مجھےشمشیر اس بھواں کے سیں گھائل ہوا ہوں میں
شوق بڑھتا ہے مرے دل کا دل افگاروں کے بیچجوش کرتا ہے جنوں مجنوں کا گلزاروں کے بیچ
عاشقاں کے بیچ مت لے جا دل بے شوق کوشیشۂ خالی کو کیا عزت ہے مے خواروں کے بیچ
کیا بری طرح بھوں مٹکتی ہےکہ مرے دل میں آ کھٹکتی ہے
زلف کی شان مکھ اوپر دیکھوکہ گویا عرش میں لٹکتی ہے