رات ہاتھوں میں جام ہوتا ہے
کلام: راجا اکرام قمر
رات ہاتھوں میں جام ہوتا ہےتصوراتی کلام ہوتا ہے
اپ اک چاند کی طرح ٹھہرےدور ہی سے سلام ہوتا ہے
جب سے بچھڑا ہےتو بکھر گیا ہوں راجا اکرام صاحب کے ساتھ
مہمان شاعر: راجا اکرام قمر
رات ہاتھوں میں جام ہوتا ہےتصوراتی کلام ہوتا ہے
اپ اک چاند کی طرح ٹھہرےدور ہی سے سلام ہوتا ہے
ایسا ہی موسم برسات کا تھاسرد ہوا اور وقت رات کا تھا
انکھوں میں وہ موتی سجائے ۔۔۔۔چپ کھڑی تھی گم سم !!!
غسل آخر نکھر گیا ہوں میںزیب تن کفن کر گیا ہوں میں
تم یقین کیوں نہیں یہ کرلیتےاس کہانی میں مر گیا ہوں میں
**** قطعہ****یہ رستہ جو تری آنکھوں سے ترے دل کو ہے
نہ جانے کتنی کٹھن مسافتوں کا ہےشام سے پہلے ہی اپنے گھر لوٹ آنا قمر