مرے شہر کےعجب یہ منظر ہیں
مرے شہر کےعجب یہ منظر ہیںکہ دور تلک لہو کے سمندر ہیں
کشمکش یہ کہ گلا ہو کس سےلکھے شاید یہی ہمارے مقدر ہیں
جب سے بچھڑا ہےتو بکھر گیا ہوں راجا اکرام صاحب کے ساتھ
مہمان شاعر: راجا اکرام قمر
مرے شہر کےعجب یہ منظر ہیںکہ دور تلک لہو کے سمندر ہیں
کشمکش یہ کہ گلا ہو کس سےلکھے شاید یہی ہمارے مقدر ہیں
ہو گیں کب سے در بدر اکھیاںبن ترے آج بھی ہیں تر اکھیاں
جب سے بچھڑا ہے تو صنم مجھ سےسو نہیں پاتیں رات بھر اکھیاں
آج پھر برسا ساون اور کالی گھٹا چھائیآج پھر دل ناتواں کو شدت سے تری یاد آئی
آج پھر تیری یادوں کے پھول مہک اٹھےآج پھر گلشن میں روتی رہی بلبل سودائی
غزلبحر: متدارک مسدس سالم
فاعلن فاعلن فاعلنکچھ یقیں کچھ گماں کر گیا
ماہ ساون کے تھے وہ دن چارکتنے حسین، خوشبو میں بسے خوشگوار
بس اچانک ہی تمجب گھر میں میرے تھے
عکس سے عکس جو ٹکرایا ادھر پانی میںشرم سے ڈوب گیا چاند قمر پانی میں
شبنمی دیکھ کے رخسار یقین ہونے لگاپھول رہتا ہے بہت تازہ و تر پانی میں
مجھ پہ گزرا جو سانحہ لکھوںمیں ترا سارا واقعہ لکھوں
لکھوں قربت کے جاں گزیں لمحے؟یا وہ فرقت کا ثانیہ لکھوں
تر تھا چہرہ آنسوؤں سےبڑے زورو کی
برسات ہو رہی تھیوہ ساتھ نہ تھا میرے