چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے
کلام: حسرت موہانی
چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہےہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانا یاد ہے
باہزاراں اضطراب و صدہزاراں اشتیاقتجھ سے وہ پہلے پہل دل کا لگانا یاد ہے
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے ( حسرت موہانی)
مہمان شاعر: حسرت موہانی
چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہےہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانا یاد ہے
باہزاراں اضطراب و صدہزاراں اشتیاقتجھ سے وہ پہلے پہل دل کا لگانا یاد ہے