ہے مشق سخن جاری چکی کی مشقت بھی
کلام: حسرت موہانی
ہے مشق سخن جاری چکی کی مشقت بھیاک طرفہ تماشا ہے حسرتؔ کی طبیعت بھی
جو چاہو سزا دے لو تم اور بھی کھل کھیلوپر ہم سے قسم لے لو کی ہو جو شکایت بھی
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے ( حسرت موہانی)
مہمان شاعر: حسرت موہانی
ہے مشق سخن جاری چکی کی مشقت بھیاک طرفہ تماشا ہے حسرتؔ کی طبیعت بھی
جو چاہو سزا دے لو تم اور بھی کھل کھیلوپر ہم سے قسم لے لو کی ہو جو شکایت بھی
روگ دل کو لگا گئیں آنکھیںاک تماشا دکھا گئیں آنکھیں
مل کے ان کی نگاہ جادو سےدل کو حیراں بنا گئیں آنکھیں