دیکھنا بھی تو انہیں دور سے دیکھا کرنا
کلام: حسرت موہانی
دیکھنا بھی تو انہیں دور سے دیکھا کرناشیوۂ عشق نہیں حسن کو رسوا کرنا
اک نظر بھی تری کافی تھی پئے راحت جاںکچھ بھی دشوار نہ تھا مجھ کو شکیبا کرنا
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے ( حسرت موہانی)
مہمان شاعر: حسرت موہانی
دیکھنا بھی تو انہیں دور سے دیکھا کرناشیوۂ عشق نہیں حسن کو رسوا کرنا
اک نظر بھی تری کافی تھی پئے راحت جاںکچھ بھی دشوار نہ تھا مجھ کو شکیبا کرنا