بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں
کلام: حسرت موہانی
بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیںالٰہی ترک الفت پر وہ کیونکر یاد آتے ہیں
نہ چھیڑ اے ہم نشیں کیفیت صہبا کے افسانےشراب بے خودی کے مجھ کو ساغر یاد آتے ہیں
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے ( حسرت موہانی)
مہمان شاعر: حسرت موہانی
بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیںالٰہی ترک الفت پر وہ کیونکر یاد آتے ہیں
نہ چھیڑ اے ہم نشیں کیفیت صہبا کے افسانےشراب بے خودی کے مجھ کو ساغر یاد آتے ہیں
اور تو پاس مرے ہجر میں کیا رکھا ہےاک ترے درد کو پہلو میں چھپا رکھا ہے
دل سے ارباب وفا کا ہے بھلانا مشکلہم نے یہ ان کے تغافل کو سنا رکھا ہے