اور تو پاس مرے ہجر میں کیا رکھا ہے
کلام: حسرت موہانی
اور تو پاس مرے ہجر میں کیا رکھا ہےاک ترے درد کو پہلو میں چھپا رکھا ہے
دل سے ارباب وفا کا ہے بھلانا مشکلہم نے یہ ان کے تغافل کو سنا رکھا ہے
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے ( حسرت موہانی)
مہمان شاعر: حسرت موہانی
اور تو پاس مرے ہجر میں کیا رکھا ہےاک ترے درد کو پہلو میں چھپا رکھا ہے
دل سے ارباب وفا کا ہے بھلانا مشکلہم نے یہ ان کے تغافل کو سنا رکھا ہے
محبت کے عوض رہنے لگے ہر دم خفا مجھ سےکہو تو ایسی کیا سرزد ہوئی آخر خطا مجھ سے
ملیں بھی وہ تو کیونکر آرزو بر آئے گی دل کینہ ہوگا خود خیال ان کو نہ ہوگی التجا مجھ سے