10 اشعار

زندگی کا وقفہ

Zindagi ka Waqfa

زندگی کا وقفہ

«زندگی کا وقفہ» اخترالایمان کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہ جشن مرگ محبت منائیں ہم اخترالایمان» میں 27 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 27 سیکنڈ ہے۔

رات سناٹے کی چادر میں پڑی ہے لپٹیپتیاں سڑکوں کی سب جاگ رہی ہیں جیسے

دیکھنا چاہتی ہیں شہر میں کیا ہوتا ہےمیں ہمیشہ کی طرح ہونٹوں میں سگریٹ کو دبائے

سونے سے پہلے خیالات میں کھویا ہوا ہوںدن میں کیا کچھ کیا اک جائزہ لیتا ہے ضمیر

ایک سادہ سا ورق نامۂ اعمال ہے سبکچھ نہیں لکھا بجز اس کے پسے جاؤ یوں ہی

کچھ نہیں لکھا بس اک اتنا کہ انساں کا نصیبگیلی گوندھی ہوئی مٹی کا ہے اک تودہ سا

دن میں سو شکلیں بنا کرتی ہیں اس مٹی سےکچھ نہیں لکھا بس اک اتنا کہ چیونٹی دل ہے

جوق در جوق جو انسان نظر آتے ہیںدانہ لے کر کسی دیوار پہ چڑھنا گرنا

اور پھر چڑھنا چڑھے جانا یوں ہی شام و سحرکچھ نہیں لکھا بس اتنا کہ پسے جاؤ یوں ہی

اور اندوہ تأسف خوشی آلام نشاطخود کو سو ناموں سے بہلاتے رہو چلتے رہو

سانس رک جائے جہاں سمجھو وہیں منزل ہےاور اس دوڑ سے تھک جاؤ تو سگریٹ پی لو

— اخترالایمان

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں