22 اشعار

مسجد

Masjid

مسجد

«مسجد» اخترالایمان کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہ جشن مرگ محبت منائیں ہم اخترالایمان» میں 27 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 42 سیکنڈ ہے۔

دور برگد کی گھنی چھاؤں میں خاموش و ملولجس جگہ رات کے تاریک کفن کے نیچے

ماضی و حال گنہ گار نمازی کی طرحاپنے اعمال پہ رو لیتے ہیں چپکے چپکے

ایک ویران سی مسجد کا شکستہ سا کلسپاس بہتی ہوئی ندی کو تکا کرتا ہے

اور ٹوٹی ہوئی دیوار پہ چنڈول کبھیگیت پھیکا سا کوئی چھیڑ دیا کرتا ہے

گرد آلود چراغوں کو ہوا کے جھونکےروز مٹی کی نئی تہہ میں دبا جاتے ہیں

اور جاتے ہوئے سورج کے وداعی انفاسروشنی آ کے دریچوں کی بجھا جاتے ہیں

حسرت شام و سحر بیٹھ کے گنبد کے قریبان پریشان دعاؤں کو سنا کرتی ہے

جو ترستی ہی رہیں رنگ اثر کی خاطراور ٹوٹا ہوا دل تھام لیا کرتی ہے

یا ابابیل کوئی آمد سرما کے قریباس کو مسکن کے لیے ڈھونڈ لیا کرتی ہے

اور محراب شکستہ میں سمٹ کر پہروںداستاں سرد ممالک کی کہا کرتی ہے

ایک بوڑھا گدھا دیوار کے سائے میں کبھیاونگھ لیتا ہے ذرا بیٹھ کے جاتے جاتے

یا مسافر کوئی آ جاتا ہے وہ بھی ڈر کرایک لمحے کو ٹھہر جاتا ہے آتے آتے

فرش جاروب کشی کیا ہے سمجھتا ہی نہیںکالعدم ہو گیا تسبیح کے دانوں کا نظام

طاق میں شمع کے آنسو ہیں ابھی تک باقیاب مصلٰی ہے نہ منبر نہ مؤذن نہ امام

آ چکے صاحب افلاک کے پیغام و سلامکوہ و در اب نہ سنیں گے وہ صدائے جبریل

اب کسی کعبہ کی شاید نہ پڑے گی بنیادکھو گئی دشت فراموشی میں آواز خلیل

چاند پھیکی سی ہنسی ہنس کے گزر جاتا ہےڈال دیتے ہیں ستارے دھلی چادر اپنی

اس نگار دل یزداں کے جنازے پہ بس اکچشم نم کرتی ہے شبنم یہاں اکثر اپنی

ایک میلا سا اکیلا سا فسردہ سا دیاروز رعشہ زدہ ہاتھوں سے کہا کرتا ہے

تم جلاتے ہو کبھی آ کے بجھاتے بھی نہیںایک جلتا ہے مگر ایک بجھا کرتا ہے

تیز ندی کی ہر اک موج تلاطم بردوشچیخ اٹھتی ہے وہیں دور سے فانی فانی

کل بہا لوں گی تجھے توڑ کے ساحل کی قیوداور پھر گنبد و مینار بھی پانی پانی

— اخترالایمان

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں