18 اشعار

میرا دوست ابو الہول

Mera Dost Abulhaul

میرا دوست ابو الہول

«میرا دوست ابو الہول» اخترالایمان کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہ جشن مرگ محبت منائیں ہم اخترالایمان» میں 27 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 22 سیکنڈ ہے۔

دھواں دھار تقریر جس نے ابھی کی تھی وہ آدمی ہےجو لفظوں کے پل باندھتا ہے

ابھرتے ہوئے نوجوانوں کو وعدوں کی افیون دے کراسی پل پہ لاتا ہے اور غرق کر کے

پلٹ جاتا ہے حسب دستور آرام گہ کویہ دنیا تو ان شعلہ سامان لوگوں نے آپس میں تقسیم کر لی

جو ہتھیار کی شکل میں رنج و غم ڈھالتے ہیںیا گولہ بارود کے کارخانوں کے مالک ہیں

یا پھر ثنا خواں ہیں ان کےہمارے لیے صرف نعرے بچے ہیں

صنعتی دور کے کج کلاہوں کی داد و دہش روح پرور ہو یا جان لیوامگر زندہ باد، آفریں، مرحبا، کے سوا کچھ نہیں پاس اپنے

یہ سب جانتا ہے ہماری شجاعت کی پرواز کیا ہےہماری جواں مردی اک صوبہ جاتی تعصب سے

یا فرقہ واری فسادات سے آگے کچھ بھی نہیں ہےفتوحات اسکندری ہم نے تختی پہ لکھ کر مٹا دی ہیں کب کی

ہمارے بعد زمیں کے تلے سو رہے ہیںعجائب گھروں میں لٹکتی ہیں تلواریں ان کی

اور ان کے زریں لبادوں کو گھن کھا گیا ہےذرہ بکتروں پر کلونس آ گئی ہے

یہ سب جانتا ہے ہماری تگ و تاز کیا ہےہمارے شکم گر ہمارے سروں پہ نہ ہوتے

اور چہروں میں اعضائے جنسیتو ہم اچھے انسان بنتے

ہمارے گھروں کے کم و بیش سب عقبی دروازے پیہم کھلے ہیںہمارے لہو میں ہرے لال پیلے بہت سارے پرچم کھلے ہیں

کہیں سے مگر حق کی آواز آتی نہیں ہےہماری زباں دل کی ساتھی نہیں ہے

ہمارے لیے کھوکھلا لفظ جمہوریت ہے، تقاریر ہیں لیڈروں کیہمارے لیے روز ناموں کے صفحات ہیں، اشتہارات ہیں نیم جنسی

ہمارے لیے دیوتاؤں کے بت ہیں، خدا کے فرامین ہیں اور عقبیٰجو بد رنگ ہے حال کی طرح اور کورے لٹھے کی بو سے بھری ہے

ہمارے لیے صرف روٹی کی جد و جہدعورتوں کے برہنہ بدن کی تمنا سے آگے کہیں کچھ نہیں ہے

ہماری رگوں میں جو تیزاب ہے اس کی شدت کبھی کم نہ ہوگی!

— اخترالایمان

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں