وہ جو لگتا ہے ہمیں جان سے پیارا پاگل
کلام: زین شکیل
وہ جو لگتا ہے ہمیں جان سے پیارا پاگلوہ ہے لاکھوں میں فقط ایک ہمارا پاگل
تیری دریاؤں سی عادت ہی تجھے لے ڈوبیمیں بتاتا بھی رہا یہ ہے کنارہ، پاگل
خاک ہوتی ہے محبت میں اڑانے کے لیے (زین شکیل صاحب کے ساتھ)
مہمان شاعر: زین شکیل
وہ جو لگتا ہے ہمیں جان سے پیارا پاگلوہ ہے لاکھوں میں فقط ایک ہمارا پاگل
تیری دریاؤں سی عادت ہی تجھے لے ڈوبیمیں بتاتا بھی رہا یہ ہے کنارہ، پاگل
یہ تو لوگوں نے یونہی بات بنائی ہوئی ہےکون کہتا ہے تری مجھ سے جدائی ہوئی ہے
میں تو آنکھوں کو بھی پڑھنے کا ہنر جانتا ہوںتو نے اک بات کہیں مجھ سے چھپائی ہوئی ہے