جو کبھی بھی نہیں رہا ناراض
جو کبھی بھی نہیں رہا ناراض !آج وہ بھی مجھے لگا ناراض !
سارے عالم میں بانٹ کر خوشیاں !وہ مجھے کرنے آ گیا ! ناراض !
خاک ہوتی ہے محبت میں اڑانے کے لیے (زین شکیل صاحب کے ساتھ)
مہمان شاعر: زین شکیل
جو کبھی بھی نہیں رہا ناراض !آج وہ بھی مجھے لگا ناراض !
سارے عالم میں بانٹ کر خوشیاں !وہ مجھے کرنے آ گیا ! ناراض !
آنکھوں سے چند خواب گزرنے کے بعد بھیدریا چڑھا ہوا ہے اترنے کے بعد بھی
ثابت پڑے ہوئے بھی شکستہ ہی ہم لگےتم پھول ہی لگے ہو بکھرنے کے بعد بھی
بھلا فقیر کو دنیا کی کیا ضرورت ہے ؟؟ترا تو صرف ابھی مسئلہ 'ضرورت' ہے !
یہ سرکشی جو ترے سر چڑھی ہے ! مار اِسے !خدا کی تُو نہیں ! تیری، 'خدا' ضرورت ہے !
دونوں کے درمیان مُقدّر تو آئے گا !الزامِ بے وفائی کسی پر تو آئے گا !
جب تُم کُھلی کتاب ہو، پڑھتے رہیں گے لوگ !بیری ہو گھر کے صحن میں، پَتھر تو آئے گا !