خامشی کو ٹٹولتا ہوا تُو
کلام: زین شکیل
خامشی کو ٹٹولتا ہوا تُوبات میں زہر گھولتا ہوا تُو
آج بس غور سے سنا میں نےمیرے لہجے میں بولتا ہوا تُو
خاک ہوتی ہے محبت میں اڑانے کے لیے (زین شکیل صاحب کے ساتھ)
مہمان شاعر: زین شکیل
خامشی کو ٹٹولتا ہوا تُوبات میں زہر گھولتا ہوا تُو
آج بس غور سے سنا میں نےمیرے لہجے میں بولتا ہوا تُو
کس نے آخر من کا دیپ بجھایا ہےسناٹا ہی کیوں آخر چِلایا ہے
تم بھی کیسی کیسی باتیں کرتے ہوکیسا کیسا تم نے ڈھونگ رچایا ہے