مری تھم تھم جاوے سانس پیا
مری تھم تھم جاوے سانس پیامری آنکھ کو ساون راس پیا
تجھے سن سن دل میں ہوک اٹھےترا لہجہ بہت اداس پیا
خاک ہوتی ہے محبت میں اڑانے کے لیے (زین شکیل صاحب کے ساتھ)
مہمان شاعر: زین شکیل
مری تھم تھم جاوے سانس پیامری آنکھ کو ساون راس پیا
تجھے سن سن دل میں ہوک اٹھےترا لہجہ بہت اداس پیا
درد کی ہی اساس ہوں میں توکتنی صدیوں کی پیاس ہوں میں تو
زائچے میں بھی میرے لکھا ہےدرد کا اقتباس ہوں میں تو
جن پر بے ثمری کی تہمت لگ جائےان پیڑوں کے چھاؤں کو دکھ ہوتے ہیں
بیٹے کے چہرے پر زردی کیوں چھائی؟کیسے کیسے ماؤں کو دکھ ہوتے ہیں
کس نے ہنستی ہوئی تصویر کے آنسو پونچھےکاش کوئی مری تقدیر کے آنسو پونچھے
وہ کچھ ایسے کسی تمہید سے باہر نکلااور اُس نے مری تحریر کے آنسو پونچھے
وہ بانٹتا ہے اگر کچھ تو یہ ستم بانٹےجنوں میں عقل کو تھوڑا سا کر کے ضم، بانٹے
دَروں کے حبس کو خود میں سمیٹ لیتا ہےیہ ایسا ابر نہیں ہے جو صرف نَم بانٹے
حیا والی وہ با کردار آنکھیںسدا روشن رہیں سردار آنکھیں
ہوئی محسوس یوں پلکوں کی جنبشکہ جیسے ہوں پسِ دیوار آنکھیں
دل نے رنج و ملال اپنائےہم نے سارے زوال اپنائے
دیکھ بیٹھا ہوا ہوں میں اب تکصرف تیرا خیال اپنائے