قصّے کو کچھ ایسا اُس نے موڑ دیا
کلام: زین شکیل
قصّے کو کچھ ایسا اُس نے موڑ دیامیرا دُکھ سے دائم رشتہ جوڑ دیا
میں تو اب تک، یار! غریقِ حیرت ہوںکیسے تُو نے میرے دل کو توڑ دیا؟
خاک ہوتی ہے محبت میں اڑانے کے لیے (زین شکیل صاحب کے ساتھ)
مہمان شاعر: زین شکیل
قصّے کو کچھ ایسا اُس نے موڑ دیامیرا دُکھ سے دائم رشتہ جوڑ دیا
میں تو اب تک، یار! غریقِ حیرت ہوںکیسے تُو نے میرے دل کو توڑ دیا؟
حیرتِ عشق سے نکلوں تو کدھر جاؤں میںایک صورت نظر آتی ہے جدھر جاؤں میں
یہ بھی ممکن ہے کہ ہر سانس سزا ہو جائےہو بھی سکتا ہے جدائی میں سنور جاؤں میں