8 اشعار

دشمن جاں کوئی بنا ہی نہیں

Dushman-e-jaan koi bana hi nahin

دشمن جاں کوئی بنا ہی نہیں

«دشمن جاں کوئی بنا ہی نہیں» باقر مہدی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مجھے دشمن سے اپنے عشق سا ہے باقر مہدی» میں 24 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

دشمن جاں کوئی بنا ہی نہیںاتنے ہم لائق جفا ہی نہیں

آزما لو کہ دل کو چین آئےیہ نہ کہنا کہیں وفا ہی نہیں

ہم پشیماں ہیں وہ بھی حیراں ہیںایسا طوفاں کبھی اٹھا ہی نہیں

جانے کیوں ان سے ملتے رہتے ہیںخوش وہ کیا ہوں گے جب خفا ہی نہیں

تم نے اک داستاں بنا ڈالیہم نے تو راز غم کہا ہی نہیں

غم گسار اس طرح سے ملتے ہیںجیسے دنیا میں کچھ ہوا ہی نہیں

اے جنوں کون سی یہ منزل ہےکیا کریں کچھ ہمیں پتا ہی نہیں

موت کے دن قریب آ پہنچےہائے ہم نے تو کچھ کیا ہی نہیں

— باقر مہدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں