6 اشعار

سفر کی آخری منزل کے راہبر ہم ہیں

Safar ki aakhri manzil ke rahbar hum hain

سفر کی آخری منزل کے راہبر ہم ہیں

«سفر کی آخری منزل کے راہبر ہم ہیں» شبنم شکیل کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «نہ کوئی حرف ملامت نہ کوئی کلمۂ خیر شبنم شکیل» میں 16 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

سفر کی آخری منزل کے راہبر ہم ہیںہمارے ساتھ چلو گرد رہ گزر ہم ہیں

لکھی ہیں چہروں پہ جو سرخیاں پڑھو ان کوخبر ہو عام کہ دنیا سے با خبر ہم ہیں

اکیلا پن ہمیں محسوس کب ہوا اب تککہ دشت دشت ہیں لیکن نگر نگر ہم ہیں

گھنیرے سائے نہ ڈھونڈو یہیں پہ دم لو ذراکہ جس کی چھاؤں میں ٹھنڈک ہے وہ شجر ہم ہیں

سمندروں سے کہو وہ سمٹ کے آ جائیںکہ اس جہاں میں اکیلے ہی کوزہ گر ہم ہیں

وہ خوب شخص ہے دیکھا ہے مل کے ہم نے اسےمگر ہے یہ بھی حقیقت کہ خوب تر ہم ہیں

— شبنم شکیل

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں