8 اشعار

آئین وفا اتنا بھی سادہ نہیں ہوتا

Aayin-e-wafa itna bhi saada nahin hota

آئین وفا اتنا بھی سادہ نہیں ہوتا

«آئین وفا اتنا بھی سادہ نہیں ہوتا» شبنم شکیل کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «نہ کوئی حرف ملامت نہ کوئی کلمۂ خیر شبنم شکیل» میں 16 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔

آئین وفا اتنا بھی سادہ نہیں ہوتاہر بار مسرت کا اعادہ نہیں ہوتا

یہ کیسی صداقت ہے کہ پردوں میں چھپی ہےاخلاص کا تو کوئی لبادہ نہیں ہوتا

جنگل ہو کہ صحرا کہیں رکنا ہی پڑے گااب مجھ سے سفر اور زیادہ نہیں ہوتا

اک آنچ کی پہلے بھی کسر رہتی رہی ہےکیوں ساتواں در مجھ پہ کشادہ نہیں ہوتا

سچ بات مرے منہ سے نکل جاتی ہے اکثرہر چند مرا ایسا ارادہ نہیں ہوتا

اے حرف ثنا سحر مسلم ترا تجھ سےبڑھ کر تو کوئی ساغر بادہ نہیں ہوتا

افسانۂ افسون جوانی کے علاوہکس بات کا دنیا میں اعادہ نہیں ہوتا

سورج کی رفاقت میں چمک اٹھتا ہے چہرہشبنمؔ کی طرح سے کوئی سادہ نہیں ہوتا

— شبنم شکیل

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں