6 اشعار

مجبور ہیں پر اتنے تو مجبور بھی نہیں

Majboor hain par itne to majboor bhi nahin

مجبور ہیں پر اتنے تو مجبور بھی نہیں

«مجبور ہیں پر اتنے تو مجبور بھی نہیں» شبنم شکیل کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «نہ کوئی حرف ملامت نہ کوئی کلمۂ خیر شبنم شکیل» میں 16 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

مجبور ہیں پر اتنے تو مجبور بھی نہیںجب ان کو بھول جائیں وہ دن دور بھی نہیں

کچھ تو لکھی ہیں اپنے مقدر میں گردشیںکچھ پیار میں نباہ کا دستور بھی نہیں

میں نے سنا ہے ترک تعلق کے بعد سےافسردہ گر نہیں تو وہ مسرور بھی نہیں

دیکھی ہیں میں نے ایسی بھی دکھیا سہاگنیںبیاہی ہیں اور مانگ میں سیندور بھی نہیں

یہ جس کا زہر روح میں میری اتر گیاہلکا سا گھاؤ تھا کوئی ناسور بھی نہیں

اس کی نظر سے کیوں کبھی گزرے مری غزلایسی تو خاص میں کوئی مشہور بھی نہیں

— شبنم شکیل

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں