جو شجر سوکھ گیا ہے وہ ہرا کیسے ہو
کلام: شہزاد احمد
جو شجر سوکھ گیا ہے وہ ہرا کیسے ہومیں پیمبر تو نہیں میرا کہا کیسے ہو
دل کے ہر ذرے پہ ہے نقش محبت اس کینور آنکھوں کا ہے آنکھوں سے جدا کیسے ہو
رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا شہزاد احمد
مہمان شاعر: شہزاد احمد
جو شجر سوکھ گیا ہے وہ ہرا کیسے ہومیں پیمبر تو نہیں میرا کہا کیسے ہو
دل کے ہر ذرے پہ ہے نقش محبت اس کینور آنکھوں کا ہے آنکھوں سے جدا کیسے ہو
چراغ خود ہی بجھایا بجھا کے چھوڑ دیاوہ غیر تھا اسے اپنا بنا کے چھوڑ دیا
ہزار چہرے ہیں موجود آدمی غائبیہ کس خرابے میں دنیا نے لا کے چھوڑ دیا