رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا
کلام: شہزاد احمد
رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیاوہ کیوں گیا ہے یہ بھی بتا کر نہیں گیا
وہ یوں گیا کہ باد صبا یاد آ گئیاحساس تک بھی ہم کو دلا کر نہیں گیا
رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا شہزاد احمد
مہمان شاعر: شہزاد احمد
رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیاوہ کیوں گیا ہے یہ بھی بتا کر نہیں گیا
وہ یوں گیا کہ باد صبا یاد آ گئیاحساس تک بھی ہم کو دلا کر نہیں گیا
وہ مرے پاس ہے کیا پاس بلاؤں اس کودل میں رہتا ہے کہاں ڈھونڈنے جاؤں اس کو
آج پھر پہلی ملاقات سے آغاز کروںآج پھر دور سے ہی دیکھ کے آؤں اس کو