یادوں کی زنجیریں
کلام: شہزاد احمد
اپنے آپ سے لڑتے لڑتے ایک زمانہ بیت گیااب میں اپنے جسم کے بکھرے ٹکڑوں کے انبار پہ بیٹھا
سوچ رہا ہوںمیرا ان سے کیا رشتہ ہے
رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا شہزاد احمد
مہمان شاعر: شہزاد احمد
اپنے آپ سے لڑتے لڑتے ایک زمانہ بیت گیااب میں اپنے جسم کے بکھرے ٹکڑوں کے انبار پہ بیٹھا
سوچ رہا ہوںمیرا ان سے کیا رشتہ ہے
شب غم کو سحر کرنا پڑے گاقیامت تک سفر کرنا پڑے گا
سوا نیزے پہ سورج آ گیا ہےیہ دن بھی اب بسر کرنا پڑے گا