دیوار پہ رکھا تو ستارے سے اٹھایا
کلام: انجم سلیمی
دیوار پہ رکھا تو ستارے سے اٹھایادل بجھنے لگا تھا سو نظارے سے اٹھایا
بے جان پڑا دیکھتا رہتا تھا میں اس کواک روز مجھے اس نے اشارے سے اٹھایا
تجھ کو آنکھوں سے نہیں دل سے جدا کرنا ہے انجم سلیمی
مہمان شاعر: انجم سلیمی
دیوار پہ رکھا تو ستارے سے اٹھایادل بجھنے لگا تھا سو نظارے سے اٹھایا
بے جان پڑا دیکھتا رہتا تھا میں اس کواک روز مجھے اس نے اشارے سے اٹھایا
وصال کی تیسری سمتمعذرت چاہتا ہوں دوست
میں اب انتظار نہیں کرتابلکہ خود چل پڑتا ہوں اپنی طرف