بجھنے دے سب دئے مجھے تنہائی چاہیئے
کلام: انجم سلیمی
بجھنے دے سب دئے مجھے تنہائی چاہیئےکچھ دیر کے لیے مجھے تنہائی چاہیئے
کچھ غم کشید کرنے ہیں اپنے وجود سےجا غم کے ساتھیے مجھے تنہائی چاہیئے
تجھ کو آنکھوں سے نہیں دل سے جدا کرنا ہے انجم سلیمی
مہمان شاعر: انجم سلیمی
بجھنے دے سب دئے مجھے تنہائی چاہیئےکچھ دیر کے لیے مجھے تنہائی چاہیئے
کچھ غم کشید کرنے ہیں اپنے وجود سےجا غم کے ساتھیے مجھے تنہائی چاہیئے
خود اپنے ہاتھ سے کیا کیا ہوا نہیں مرے ساتھمیں کیا کہوں مرا کچھ بھی گلہ نہیں مرے ساتھ
میں اس کے ساتھ ہوں بے شک میں اس کے پاس نہیںوہ میرے پاس تھا لیکن وہ تھا نہیں مرے ساتھ
سلگ سلگ کے جو خود کو دھواں بناتا ہوںزمیں کو اپنے تئیں آسماں بناتا ہوں
فقط دعا سے کہاں بال و پر نکلتے ہیںمیں چھت پہ بیٹھا ہوا سیڑھیاں بناتا ہوں