یہ محبت کا جو انبار پڑا ہے مجھ میں
کلام: انجم سلیمی
یہ محبت کا جو انبار پڑا ہے مجھ میںاس لیے ہے کہ مرا یار پڑا ہے مجھ میں
چھینٹ اک اڑ کے مری آنکھ میں آئی تو کھلاایک دریا ابھی تہہ دار پڑا ہے مجھ میں
تجھ کو آنکھوں سے نہیں دل سے جدا کرنا ہے انجم سلیمی
مہمان شاعر: انجم سلیمی
یہ محبت کا جو انبار پڑا ہے مجھ میںاس لیے ہے کہ مرا یار پڑا ہے مجھ میں
چھینٹ اک اڑ کے مری آنکھ میں آئی تو کھلاایک دریا ابھی تہہ دار پڑا ہے مجھ میں
سخت مشکل میں کیا ہجر نے آسان مجھےدوسرا عشق ہوا پہلے کے دوران مجھے
تیرے اندر کی اداسی کے مشابہ ہوں میںخال و خد سے نہیں آواز سے پہچان مجھے
کیا ہے قصد تو سو بار سوچ ، حوصلہ کریہ راہ عشق ہے ، دیوار سے بھی مشورہ کر
اسے گلی سے تہی دست مت گزرنے دےشبِ سیاہ کو میرا چراغ ہدیہ کر